عقد نكاح اور رخصتى كے مابين طويل مدت كا حكم

كيا عقد نكاح اور رخصتى كے درميان ايك طويل عرصہ شرعا مكروہ ہے ؟

الحمد للہ:

ہم نے يہ سوال فضيلۃ الشيخ محمد بن صالح العثيمين حفظہ اللہ كے سامنے پيش كيا تو ان كا جواب تھا:

مكروہ نہيں كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے نكاح ہوا تو عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى عمر چھ برس تھى، اور جب ان كى رخصتى ہوئى تو ان كى عمر نو برس تھى.

بعض اوقات عقد نكاح پر شفقت كرتے ہوئے رخصتى ميں جلدى كى جاتى ہے كہ كہيں عورت اور اس كے خاندان والوں كى رائے ميں تبديلى نہ پيدا ہو جائے، لہذا رخصتى ميں جلدى كرنے ميں شرعا كوئى حرج نہيں.

ليكن ميرى رائے يہى ہے كہ عقد نكاح رخصتى كے وقت جتنا وقت ممكن ہو سكے قريب ہو تا كہ پيدا ہونے والى مشكلات كى تلافى كى جا سكے؛ يعنى ايسا اختلاف جو طلاق كا باعث بنے يا پھر فوتگى وغيرہ ہو.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے " .

الشيخ محمد بن صالح العثيمين

 

خرابی کی صورت یا تجاویزکے لیے رپورٹ کریں

ہر میل،فیڈبیک،مشورے،تجویز کو قدر کی نظر سے دیکھا جائے گا

صفحہ کی لائن میں تبدیلی نہ کریں ـ