آخري عشرہ كا اعتكاف كرنے والا اعتكاف والي جگہ ميں كب داخل ہو اور كب نكلے؟

سوال
ميں رمضان المبارك كا آخري عشرہ اعتكاف كرنا چاہتا ہوں، اور يہ معلوم كرنا چاہتا ہوں كہ مسجد ميں كب جاؤں اور وہاں سےكب نكلوں ؟
جواب کا متن
الحمد للہ.
اول:
اعتكاف والي جگہ ميں داخل ہونے كےمتعلق جمہور علماء كرام جن ميں آئمہ اربعہ امام ابوحنيفہ، امام مالك ، امام شافعي اور امام احمد رحم اللہ تعالي شامل ہيں ان سب كا مسلك يہ ہےكہ: جو كوئي بھي رمضان المبارك كےآخري عشرہ كا اعتكاف كرنا چاہے وہ اكيسويں رات كو غروب شمس سے قبل مسجد ميں داخل ہو انہوں نےمندرجہ ذيل دلائل سے استدلال كيا ہے:
1 - نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ آپ صلي اللہ عليہ وسلم رمضان المبارك كےآخري عشرہ كا اعتكاف كيا كرتےتھے. متفق عليہ.
يہ اس بات كي دليل ہے كہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم راتوں كا اعتكاف كرتےتھےنہ كہ دنوں كا، اس ليے كہ عشر راتوں كي تميز ہے، اللہ سبحانہ وتعالي كا فرمان ہے:
( اور دس راتوں كي قسم ) الفجر ( 2 )
اور آخري عشرہ اكيسويں رات سے شروع ہوتاہے .
تواس بنا پر اعتكاف كرنےوالا اكيسويں رات غروب شمس سے قبل مسجد ميں داخل ہو.
2 - ان كا كہنا ہےكہ: اعتكاف كرنے كاسب سے عظيم اور بڑا مقصد ليلۃ القدر كي تلاش ہے ، اور اكيسويں رات آخري عشرہ كي تاق راتوں ميں سے ہے لھذا يہ احتمال ہوسكتا ہے كہ يہي رات ليلۃ القدر ہو، اس ليے اسے اس رات اعتكاف كي حالت ميں ہونا چاہيے.
امام سندي كا حاشيۃ النسائي ميں يہي كہنا ہے، مزيدديكھيں: المغني ( 4 / 489 )
ليكن امام بخاري اور امام مسلم نے عائشہ رضي اللہ تعالي عنھا سے بيان كيا ہے وہ كہتي ہيں" رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم جب اعتكاف كرنا چاہتے تو اپني اعتكاف والي جگہ ميں نماز فجر كےبعد داخل ہوتے. صحيح بخاري حديث نمبر ( 2041 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1173 ) .
بعض علماء سلف نے اس حديث كےظاہر كوديكھتےہوئے يہ كہا ہےكہ وہ اعتكاف كرنےوالي جگہ ميں نماز فجر كےبعد داخل ہو، مستقل فتوي كميٹي ( اللجنۃ الدائمۃ ) كےعلماء كرام نےبھي اسي كو ليا ہے ديكھيں فتاوي اللجنۃ الدائمۃ ( 10 / 411 ) اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالي نےبھي اسي كوليا ہے . ديكھيں فتاوي ابن باز ( 15 / 442 ) .
ليكن جمہور علماء كرام نے اس حديث كےدوميں سےايك جواب ديا ہے:
اول:
نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم غروب شمس سےقبل اعتكاف كرچكے تھے ليكن وہ خاص اعتكاف والي جگہ ميں نماز فجر كےبعد داخل ہوئے.
امام نووي رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
( نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم جب اعتكاف كرنا چاہتےتو نماز فجر ادا كرتےاور پھر اپني اعتكاف والي جگہ ميں داخل ہوجاتے )
اس حديث سے انہوں نےدليل لي ہے جويہ كہتےہيں كہ اعتكاف كي ابتداء دن كے شروع سےكيا جائےگا، امام اوزاعي، امام ثوري اور ليث كا بھي ايك قول يہي ہے، اور امام ابوحنيفہ اورامام شافعي اور امام احمد رحمھم اللہ تعالي كا كہنا ہے كہ اگر كوئي شخص مہينہ يا دس دن كا اعتكاف كرنا چاہے تو وہ اعتكاف ميں غروب شمس سے قبل داخل ہو، اور انہوں نےاس حديث كي تاويل يہ كي ہے كہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نماز فجر كےبعد اعتكاف والي جگہ ميں داخل ہوئے اور خلوت اختيار كي يہ نہي كہ اعتكاف كي ابتدا كا وقت ہي يہ ہے بلكہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نماز مغرب سےقبل ہي مسجد ميں اعتكاف كرچكے تھے اور جب نماز فجر ادا كي تو عليحدگي اور خلوت اختيار كرلي . اھ
دوسرا جواب :
حنابلہ ميں سے قاضي ابويعلي رحمہ اللہ نےيہ جواب ديا ہےكہ: اس حديث كو اس پر محمول كيا جائےكہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم بيس تاريخ والےدن ايسا كيا كرتےتھے، امام سندي رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں: يہ جواب نظر كو بھاتا ہے اور اعتماد كےاعتبار سےبھي بہتر اور اولي ہے . اھ
شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالي سے مندرجہ ذيل سوال پوچھا گيا:
اعتكاف كب شروع كيا جائےگا؟
شيخ رحمہ اللہ تعالي كاجواب تھا:
جمہور اہل علم كا مسلك يہ ہےكہ: اعتكاف كي ابتدا اكيسويں رات ہے نہ كہ اكيسويں تاريخ كي فجر، اگرچہ بعض علماء كرام نےبخاري شريف ميں عائشہ رضي اللہ تعالي عنھا كي حديث ( جب نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے صبح كي نماز ادا كي تو اپنےاعتكاف كي جگہ ميں داخل ہوئے ) سےاستدلال كرتےہوئے يہ مسلك اختيار كيا ہے كہ اعتكاف كي ابتدا اكيس تاريخ كي نماز فجر سے ہوتي ہے، ليكن جمہور علماء كرام نےاس كا جواب يہ ديا ہے كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم صبح كےوقت لوگوں سے عليحدہ ہوئے، ليكن اعتكاف كي نيت رات كےشروع ميں ہي كي، اس ليے كہ آخري عشرہ كي ابتداء بيس تاريخ كےغروب شمس سے ہوتي ہے. اھ
ديكھيں : فتاوي الصيام صفحہ نمبر ( 501 )
اور صفحہ ( 503 ) پر كہتےہيں:
اعتكاف كرنےوالے كا آخري عشرہ ميں دخول اكيس تاريخ كي رات غروب شمس سے ہوتا ہے، اور يہ اس ليے كہ آخري عشرہ كےدخول كا يہي وقت ہے، اور عائشہ رضي اللہ تعالي عنھا كي حديث اس كےمعارض نہيں اس ليے كہ اس كےالفاظ مختلف ہيں، لھذا مدلول لغوي كا قريب ترين ليا جائےگا اور وہ صحيح بخاري كي روايت ميں ہيں:
عائشہ رضي اللہ تعالي عنھا بيان كرتي ہيں كہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم ہر رمضان المبارك ميں اعتكاف كيا كرتےتھے، اورجب صبح كي نماز ادا كرتےتو اپني اعتكاف والي جگہ ميں داخل ہوجاتے. صحيح بخاري ( 2041 )
توعائشہ رضي اللہ تعالي عنھا كا يہ قول كہ ( اور جب صبح كي نماز كر ليتے تواپني اعتكاف والي جگہ ميں داخل ہوجاتے ) اس بات كا متقاضي ہے كہ نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا ٹھرنا دخول سے قبل ہے ( يعني نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا مسجد ميں ٹھرنا ان كا اعتكاف والي جگہ ميں داخل ہونے سے قبل ہے ) اس ليے كہ عائشہ رضي اللہ تعالي عنھا كا قول ( اعتكف ) فعل ماضي ہے اور اصل يہ كہ اس كا استعمال اس كي حقيقت ميں كيا جائے. اھ
دوم :
اعتكاف سے نكلنےوقت : اعتكاف كرنے والا شخص اپنےاعتكاف كو رمضان المبارك كےآخري دن كےسورج غروب ہونے پر ختم كرےگا.
شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالي سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:
اعتكاف كرنےوالا شخص اپنے اعتكاف سے كب نكلےگا، آيا عيد كي رات غروب شمس كےبعد يا عيد كےدن نماز فجر كےبعد ؟
شيخ رحمہ اللہ تعالي كا جواب تھا:
اعتكاف كرنےوالا شخص اپنےاعتكاف سے رمضان المبارك ختم ہونےپر نكلےگا، اور رمضان المبارك كا اختتام عيدكي رات غروب شمس پر ہوجاتا ہے . اھ ديكھيں: فتاوي الصيام ( 502 ) .
مستقل فتوي كميٹي كےفتاوي جات ميں ہےكہ:
رمضان المبارك كےعشرہ كا اعتكاف رمضان كےآخري دن غروب شمس كےوقت ختم ہوجائےگا. اھ
ديكھيں فتاوي اللجنۃ الدائمۃ ( 10 / 411 )
اور اگر وہ اپنےاعتكاف والي جگہ ميں نماز فجر اور نماز عيد ادا كرنےتك رہنا اختيار كرے تواس ميں بھي كوئي حرج نہيں، بعض سلف نےاسے مستحب قرار ديا ہے.
امام مالك رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں كہ انہوں نےبعض اہل علم كورمضان المبارك كےآخري عشرہ كا اعتكاف كرتےہوئےديكھا وہ لوگوں كےساتھ عيد الفطر ادا كرنےكےسے پہلے اپنےگھر واپس نہيں پلٹتےتھے، امام مالك رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں: مجھ تك يہ پہلے دور كےاہل فضل وعلم سے پہنچا ہے اور اس مسئلہ ميں ميں نےسب سے بہتر يہي سنا ہے.
امام نووي رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
امام شافعي رحمہ اللہ اور ان كےاصحاب كہتےہيں: جوكوئي رمضان المبارك كےآخري عشرہ كےاعتكاف ميں نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم كي اقتداو پيروي كرنا چاہتا ہے اسے چاہيے كہ وہ اكيسويں رات غروب شمس سے قبل ہي مسجد ميں داخل ہوجائے تا كہ اس سے كچھ بھي نہ چھوٹ سكے، اور عيد كي رات غروب شمس كےبعد وہاں سے نكلے، چاہے مہينہ كمي والا ہو يا زيادہ ( يعني تيس يوم ہوں يا كم ) اور افضل وبہتر يہ ہے كہ وہ عيد كي رات مسجد ميں ہي گزارے تاكہ نماز وہيں ادا كرسكے، يا پھراگر نماز عيد عيدگاہ ميں ادا كريں تووہ وہيں سے عيدگاہ جائے. اھ
ديكھيں: المجموع للنووي ( 6 / 323 )
اور جب اعتكاف سے ہي وہ نماز عيد كےليےجائے تواس كےليے عيدگاہ جانےسےقبل غسل اور زيب وزينت اختيار كرنا مستحب ہے، اس ليے كہ يہ عيد كي سنن ميں شامل ہے.
اس كي تفصيل كےليے سوال نمبر ( 36442 )
واللہ اعلم .

خرابی کی صورت یا تجاویزکے لیے رپورٹ کریں

ہر میل،فیڈبیک،مشورے،تجویز کو قدر کی نظر سے دیکھا جائے گا

صفحہ کی لائن میں تبدیلی نہ کریں ـ