ویلنٹائن ڈے منانے کا حکم

سوال

ویلنٹائن ڈے منانے کا کیا حکم ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

پہلی بات:

ویلنٹائن ڈے رومانوی جاہلی دن ہے، اس دن کا جشن رومانیوں کے عیسائیت میں داخل ہونے کے بعد بھی جاری رہا، اس جشن کو ایک ویلنٹائن نامی پوپ سے جوڑا جاتا ہے جسے 14 فروری 270 عیسوی کو پھانسی کا حکم دے دیا گیا تھا، کفار ابھی بھی اس دن جشن مناتے ہیں، اور برائی و بے حیائی عام کرتے ہیں۔

دوسری بات:

مسلمان کفار کے کسی بھی دن کو نہیں منا سکتا؛ اس لئے کہ تہوار منانا شریعت کا حصہ ہے، اس لئے شرعی نصوص کی پابندی ضروری ہوگی۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"سالانہ دن منانا ایسا منہج ، مسلک اور شریعت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا:

( لكل جعلنا منكم شرعة ومنهاجا )

ترجمہ: ہم نے ہر ایک کے لئے شریعت اور منہج بنا دیا ہے۔ المائدۃ/48

اسی طرح فرمایا:

( لكل أمة جعلنا منسكا هم ناسكوه )

ترجمہ: ہم نے ہر ایک امت کے لئے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیا جس پر وہ چلتے ہیں۔ الحج/ 67

جیسے قبلہ، نماز، روزہ وغیرہ، چنانچہ انکے تہواروں میں یا دیگر عبادات میں شرکت کرنے میں کوئی فرق نہیں ہے، اس لئے کہ کسی ایک تہوار میں انکی موافقت کرنا کفر پر موافقت ہے، اور چند جزئیات میں موافقت کفر کی بعض جزئیات میں موافقت شمار ہوگی، بلکہ تہواروں کی وجہ سے ہی مختلف شریعتوں میں امتیاز ہوتا ہے، اور اسی سے کسی شریعت کےشعائرکا اظہار ہوتا ہے، اس لئے تہواروں میں موافقت کفریہ شریعت اور واضح ترین کفریہ شعیرہ پر موافقت تصور ہوگی، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تہواروں میں موافقت آخر کارخالص کفر تک پہنچا سکتی ہے۔

ابتدائی طور پر تہوار منانے کی کم از کم حیثیت ایک گناہ ہے، اور انہی خصوصی تہواروں کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا: (ہر قوم کیلئے ایک تہوار ہے، اور ہمارا تہوار ہماری عید ہے) چنانچہ "زنار" - اسلامی ریاست میں ذمی لوگوں کیلئے خاص لباس- وغیرہ اُنکی خاص علامات پہننا بد ترین مشابہت ہے؛ اس لئے کہ یہ علامات مسلم حکمرانوں کی طرف سے وضع کی گئی ہیں دین نے مقرر نہیں کیں، جسکا مقصد یہ ہے کہ مسلم اور کافر کے مابین فرق کیا جاسکے، جبکہ تہوار اور اسکے لوازمات ملعون کفار اور ملعون دین سے تعلق رکھتے ہیں، چنانچہ ان کے امتیازی تہواروں میں موافقت کرنا اللہ تعالی کی ناراضگی اور سزا کا موجب بنتے ہیں" انتہی۔

"اقتضاء الصراط المستقيم" (1/207)

آپ رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا:

"مسلمانوں کیلئے کفار کے ساتھ مشابہت کرنا جائز نہیں کہ انکے مخصوص تہواروں میں کھانا پینا، لباس، نہانا دھونا، چراغاں کرنا جائز نہیں، کسی دن عبادت یا کاروبار سے عام تعطیل وغیرہ کی جائے،اس دن کھانے تیار کرنا، تحفے تحائف دینا، تہوار کے لوازمات کی خرید و فروخت کرنا، تہوار کے دن بچوں کو کھیل کود اور اچھا لباس زیب تن کروانا سب کچھ جائز نہیں ہے۔

مختصراً : مسلمانوں کیلئے یہ جائز نہیں کہ وہ کفار کے تہوار کے دن کوئی خاص کام کریں، بلکہ انکے تہوار مسلمانوں کے دیگر ایام کی طرح ہونے چاہئیں، مسلمان اسے کوئی اہمیت نہ دیں" انتہی

"مجموع الفتاوى" (25/329)

حافظ ذہبی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"اگر عیسائیوں اور یہودیوں کا کوئی خاص تہوار ہو، تو جس طرح کوئی مسلمان انکے مذہب اور قبلہ میں انکے ساتھ موافقت نہیں کرتا بعینہٖ کوئی مسلمان ان کے تہوار میں بھی شرکت نہ کرے"انتہی

ماخوذ از: "تشبه الخسيس بأهل الخميس" یہ مضمون مجلہ "الحکمۃ"(4/193) میں شائع ہوا۔

اور جس حدیث کی طرف شیخ الاسلام نے اشارہ کیا ہے بخاری (952) اورمسلم (892) نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، آپ کہتی ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور میرے پاس اس وقت انصاریوں کی دو بچیاں تھیں جو بُعاث کے دن انصار کی طرف سے کہے جانے والے اشعار گنگنا رہی تھیں، آپ کہتی ہیں کہ : وہ دونوں کوئی گلوکارہ بھی نہیں تھیں، انہیں سن کر ابو بکر نے کہا:کیا شیطانی بانسریاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں! یہ کام عید کے دن ہو رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ابو بکر! ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے)

ابو داود نے (1134) میں روایت کی ہے کہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ کے دو دن تھے جن میں وہ کھیلا کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ دو دن کیا ہیں؟) تو صحابہ کرام نے جواب دیا: ہم جاہلیت میں ان دنوں میں کھیلا کرتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یقیناً اللہ تعالی نے تمہیں اس سے بہتر دو دن عطا کئے ہیں؛ عید الاضحی اور عید الفطر) اس حدیث کو البانی نے صحیح ابو داود میں صحیح قرار دیا ہے۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عید تہوار کسی قوم کے ایسے خصائص میں سے ہے جن سے وہ دیگر اقوام سے امتیاز حاصل کرتی ہیں، اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ جاہلی اور مشرکوں کے تہوار کے دن جشن منانابھی جائز نہیں ہے۔

اور اہل علم نے ویلنٹائن ڈے منانے کے بارے میں حرام ہونے کا فتوی بھی دیا ہے:

1- شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا ، جسکا متن یہ ہے:

" عہدِ قریب میں طالبات کے درمیان ویلنٹائن ڈے منانے کا بہت زیادہ رواج ہوگیا ہے، اور یہ عیسائیوں کا تہوار ہے، اس دن میں مکمل لباس سرخ پہنا جاتا ہے، کپڑے، جوتے سب کچھ سرخ ہوتا ہے، اور طالبات اس دن میں سرخ پھولوں کا آپس میں تبادلہ بھی کرتی ہیں، ہم فضیلۃ الشیخ سے اس تہوار کو منانے کا حکم جاننا چاہتے ہیں، اور آپ مسلمانوں کو اس قسم کے معاملات میں کیا نصیحتیں کرینگے، اللہ تعالی آپکی حفاظت اور نگہبانی فرمائے؟

تو انہوں نے جواب دیا:

ویلنٹائن ڈے منانا متعدد وجوہات کی بنا پر جائز نہیں ہے:

پہلی وجہ: یہ ایک بدعتی تہوار ہے جسکی شریعت میں کوئی اجازت نہیں۔

دوسری وجہ: اسکی وجہ سے عشق اور دیوانگی جنم لیتی ہے۔

تیسری وجہ: اسکی بنا پر دل غیر اخلاقی چیزوں میں مبتلا ہوجاتا ہے جو کہ طریقِ سلف صالحین کے بالکل مخالف ہے۔

اس لئے اس دن کھانے، پینے، پہناوے، اورتحائف وغیرہ عید کے کاموں میں سے کوئی کام نہیں ہونا چاہئے۔

اور ہر مسلمان پر ضروری ہے کہ اپنے دین پر کار بند رہے، اور ضعیف العقل بن کر ہر آواز لگانے کے پیچھے نہ چلے، میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ مسلمانوں کو ظاہری و باطنی تمام فتنوں سے محفوظ رکھے، اور ہماری راہنمائی فرمائے، اور توفیق بھی دے"انتہی

"مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين" (16/199)

2- دائمی کمیٹی برائے فتوی سے پوچھا گیا:

بعض لوگ ہر عیسوی سن کی چودہ فروری کو ویلنٹائن ڈے Valentine Day مناتے ہوئے سرخ پھولوں کا تبادلہ کرتے ہیں، اس دوران سرخ لباس زیب تن کرتے ہیں، اور ایک دوسرے کو مبارک باد بھی دیتے ہیں، جبکہ کچھ مٹھائیوں والے سرخ رنگ کی مٹھائیاں بنا کر سرخ رنگ کے دل بنا کر پیش کرتے ہیں، جبکہ کچھ تو اس دن سے متعلق خاص مصنوعات بھی پیش کرتے ہیں اور اعلانات کئے جاتے ہیں، تو مندرجہ ذیل نقاط کے بارے میں آپکا کیا خیال ہے:

پہلا: اس دن تہوار منانے کا کیا حکم ہے؟

دوسرا: دکانوں سے اس دن کیلئے خریداری کا کیا حکم ہے؟

تیسرا: اس دن کو نہ منانے والے بعض افراد کی جانب سے اس تہوار میں تحفۃً دی جانے والی کچھ چیزیں فروخت کرنا۔

تو انہوں نے جواب دیا:

"کتاب و سنت کی صریح دلیلیں ہیں ، اور ان پر سلف صالحین کا اجماع بھی ہےکہ اسلام میں صرف دو ہی تہوار ہیں اور وہ: عید الفطر، اور عید الاضحی ہیں، انکے علاوہ تمام تہوار چاہے وہ کسی شخص سے متعلق ہوں، یا جماعت سے ، یا کسی واقعے یا خوشی سے یہ تمام تہوار بدعت ہیں مسلمانوں کےلئے یہ تہوار منانا ، کوئی منائے تو خاموش رہنا، یا اس تہوار میں اظہارِ خوشی کرنا، یا کسی بھی انداز سے اس تہوار کے منانے میں مدد کرنا، درست نہیں ، چونکہ یہ اللہ کی حدود سے تجاوز ہے، اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے وہ اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔

اور اگر کوئی خود ساختہ تہوار کفار کا بنایا ہوا ہوتو یہ گناہ در گناہ ہے، کیونکہ اس میں انکے ساتھ مشابہت ، اور دل لگی کی ایک قسم پائی جاتی ہے، حالانکہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں مؤمنوں کو ان سے مشابہت اور دل لگی سے منع فرمایا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: (جو جس قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ اُنہی میں سے ہے)۔

اور ویلنٹائن ڈے بھی مذکورہ جنس میں سے ہے، کیونکہ یہ عیسائیت کے تہواروں میں سے ہے، اس لئے اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان لانے والے مسلمان کیلئے یہ منانا، یا اسکا اقرار کرنا، اور مبارک باد دیناجائز نہیں ، بلکہ اللہ اور اسکے رسول کے احکام کی پاسداری کرتے ہوئے اس سے بچنا، اور ترک کرنا ضروری ہے، تا کہ اللہ تعالی کو ناراض کرنے والے اسباب سے دور رہ سکے۔

ویلنٹائن ڈے اور اسی طرح کے دیگر ناجائز تہواروں پر ایک مسلمان کی طرف سے کسی بھی شکل میں معاونت بھی حرام ہے، چاہے کھانے پینے، خرید و فروخت، مصنوعات، تحائف، خطوط، اعلانات، وغیرہ ہی کی شکل میں کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ سب گناہ اور زیادتی کے زمرے میں آتا ہے، اور اللہ اور اسکے رسول کی نافرمانی ہے، جبکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ:

( وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان واتقوا الله إن الله شديد العقاب )

ترجمہ: نیکی اور تقوی کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد کرو، گناہ اور زیادتی کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو، اور اللہ تعالی سے ڈر جاؤ، بیشک اللہ تعالی سخت سزا دینے والا ہے"

ایک مسلمان کیلئے ہر وقت کتاب و سنت پر کار بند رہنا انتہائی ضروری ہے، خاص طور پر جب فتنے بہت زیادہ ہوں، اور گناہوں کی بھرمار ہو، یہ بھی ضروری ہے کہ غضب ، گمراہی ، اور فسق و فجور والے لوگوں کی غلطیوں میں مت پڑےاورسمجھداری سے کام لے، یہ لوگ اللہ تعالی سے عزت ، وقار کی امید نہیں رکھتے، اور اسلام کی وجہ سے اپنا سر بلند نہیں کرتے۔

اسی طرح ایک مسلمان پر ضروری ہے کہ اللہ تعالی سے گڑگڑا کر ہدایت اور اس پر ثابت قدمی مانگے، کیونکہ اللہ کے علاوہ کوئی ہدایت دینے والا نہیں ، اور ثابت قدم کرنے والا بھی وہی ہے، اللہ تعالی ہمیں توفیق دے۔

اللہ تعالی ہمارے نبی محمد ، آپکی آل، اور صحابہ کرام پر رحمتیں اور سلامتیں نازل فرمائے" انتہی

3- شیخ ابن جبرین حفظہ اللہ سے پوچھا گیا:

"نوجوان لڑکے اور لڑکیوں میں ایک ویلنٹائن ڈے کا تہوار بہت پھیل رہا ہے، "ویلنٹائین" ایک عیسائی راہب کا نام ہے، جس کی عیسائی لوگ تعظیم کرتے ہوئے ہر سال چودہ فروری کو یہ دن مناتے ہیں، اس دن میں وہ لوگ تحائف، اور سرخ پھول پیش کرتے ہیں، اورساتھ ساتھ سرخ لباس بھی زیب تن کرتے ہیں، تو اس تہوار کے منانے کا ، یا اس دن تحائف کا تبادلہ ، اور اظہار خوشی کا کیا حکم ہے؟

تو انہوں نے جواب دیا:

پہلی بات:

اس طرح کے بدعتی تہواروں کو منانا جائز نہیں ہے؛کیونکہ یہ بدعت ہے، اور شریعت میں اسکی کوئی اجازت نہیں ، چنانچہ تہوار عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں داخل ہوتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں نہیں تو وہ مردود ہے) یعنی ایجاد کرنے والے پر مردود ہے۔

دوسری بات:

اس تہوار کے منانے میں کفار کی مشابہت اور انکی تقلید ہے، کہ اُس کی تعظیم کی جائے گی جس کی وہ تعظیم کرتے ہیں، اور انکے تہواروں اور تقاریب کا اس میں احترام پایا جاتا ہے، اور ان کی مذہبی رسوم میں مشابہت بھی ہے، جبکہ حدیث میں ہےکہ : (جس نے جس قوم کی مشابہت کی وہ انہی میں سے ہے)۔

تیسری بات:

اس کے منانے پر لہو ولعب، گانا بجانا، بے پردگی، مرد وخواتین کا اختلاط، خواتین کا مردوں کے سامنے آنا ، مفاسد، حرام کام اور گناہ وغیرہ مرتب ہوتے ہیں، یا کم از کم بے حیائی اور اسکے ابتدائی وسائل و آثار رونما ہوتے ہیں۔

اسکے لئے کوئی اپنے تحفظات پیش کرتے ہوئے یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ تو صرف تفریح ہے، کیونکہ یہ غلط ہے، چنانچہ جو اپنے لئے خیر چاہتا ہے، اسکے لئے ضروری ہے کہ گناہوں ، اور گناہوں کے وسائل سے اپنے آپ کو بچا کر رکھے"

پھر انہوں نے کہا:

مذکورہ بالا بیان کے باعث ایسے تحائف اور پھولوں کی خریدو فروخت منع ہے، جن کو خریدار اس قسم کے تہواروں کیلئے استعمال کر سکتا ہے، تا کہ فروخت کرنے والا اس بدعت کی ترویج میں شامل نہ ہو جائے، واللہ اعلم۔ " انتہی

واللہ اعلم .

خرابی کی صورت یا تجاویزکے لیے رپورٹ کریں

ہر میل،فیڈبیک،مشورے،تجویز کو قدر کی نظر سے دیکھا جائے گا

صفحہ کی لائن میں تبدیلی نہ کریں ـ