كيا يہ حديث اسلامى مساوات كے خلاف ہے ؟

 

 

 

ابو داود وغيرہ كى روايت كردہ درج ذيل حديث كى صحت كيسى ہے:
" اچھى خصلتوں اور اوصاف حميدہ كے مالك افراد كى غلطيوں سے تجاوز كيا كرو "
كيونكہ ميں نے پڑھا ہے كہ بعض لوگ اس ميں شك كرتے ہيں كہ يہ قرآن كريم كى ان آيات كے مخالف ہے جو عدل و انصاف اور مساوات كا درس ديتى ہيں ؟

الحمد للہ:

يہ حديث امام احمد، ابو داود، اور نسائى اور بيھقى وغيرہ نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے روايت كى ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اچھى خصلتوں اور اوصاف حميدہ كے مالك افراد كى غلطيوں سے تجاوز كرو، ليكن حدود ميں نہيں "

اس حديث كے كئى ايك طرق ہيں جو كلام سے خالى نہيں، ليكن سب طريق مل كر يہ حديث حسن درجہ تك پہنچتى ہے.

اور حديث كا معنى يہ ہے كہ:

اچھى ہئيت اور خصلت كے مالك شخص سے اگر كوئى غلطى ہو جائے تو اس سے تجاوز كيا جائے، جب تك وہ حدود اللہ ميں شامل نہ ہو، اور حكمران تك پہنچ جائے تو اس پر اس كا قائم اور جارى كرنا واجب ہے.

اور " اچھى خصلت اور اوصاف حميدہ كےمالك " سے مراد عام لوگوں ميں سے اہل مروءت اور اوصاف حميدہ كے مالك افراد ہيں جن كى اطاعت دائمى ہے، اور ان كا عدل مشہور ہو، ليكن بعض اوقات ان كا قدم پھسل جائےاور ان سے غلطى كا ارتكاب ہو جائے اور گناہ كر بيٹھيں.

ابن قيم رحمہ اللہ نے يہ معنى رد كرتے ہوئے كچھ اس طرح كہا ہے:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اہل تقوى اور اطاعت گزار اور عباد كرنے والے افراد كو اوصاف حميدہ اور اچھى خصلت كے الفاظ سے تعبير نہيں كيا، اور نہ ہى متقين اور مطيع افراد كى تعبير ميں اللہ تعالى اور اس كے رسول كى كلام ميں يہ عبارت ہے، اور ظاہر يہى ہے كہ اس سے مراد لوگوں كے مابين حسب و جاہ اور شرف ركھنے والے افراد ہيں، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے انہيں باقى لوگوں پر ايك قسم كى تكريم و افضليت كے ساتھ مخصوص كيا ہے، تو ان ميں سے جو شخص خير و بھلائى كے ساتھ مشہور و معروف ہو حتى كہ اس قدم پھسل جائے، اور شيطان اسے گمراہ كردے تو ہم اسے سزا دينے ميں جلدى نہيں كرينگے، بلكہ اس كى غلطى سے درگزر كيا جائيگا، جب تكہ وہ غلطى اللہ تعالى كى حدود ميں شامل نہ ہوتى ہو، اور اگر حدود ميں سے ہو تو پھر معاف نہيں ہوگى، كيونكہ حسب و شرف والے انسان پر بھى اس حد كا نفاذ اسى طرح متعين ہے جس طرح ايك كم تر درجہ كے شخص پر متعين ہے.

كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم سے پہلے لوگ صرف اس وجہ سے ہلاك كر ديے گئے كہ جب ان ميں سے كوئى حسب و شرف والا شخص چورى كر ليتا تو وہ اسے چھوڑ ديتے، اور جب كوئى كمزور اور كم تر چورى كر ليتا تو اس پر حد نافذ كر ديتے، اور اللہ كى قسم اگر محمد ( صلى اللہ عليہ وسلم ) كى بيٹى فاطمہ ( رضى اللہ تعالى عنہا ) بھى چورى كرتى تو ميں اس كا ہاتھ كاٹ ديتا "

متفق عليہ.

اس شريعت مطہرہ كے كامل ہونے كے اوصاف و محاسن ميں سے يہ بھى ايك وصف ہے، اور اس كى سياست كى يہ بھى ايك نشانى ہے، اور بندوں كے معاش اور معاد كى مصلحت ميں اس شريعت كا انتظام ہے " انتہى كلامہ.

جو كچھ بيان ہوا ہے اس سے اس حديث كا معنى متعين ہو جاتا ہے كہ يہ حديث اسلامى عدل و انصاف اور مساوات كے مخالف نہيں، بلكہ اس ميں تو يہ بيان ہوا ہے كہ اگر كسى ايسى شخص سے كوئى غلطى ہو جائے جس كى عادت غلطى كرنا نہيں، اور نہ ہى وہ غلطى اللہ تعالى كى حدود ميں سے كوئى حد ہو، اور اس پر تعزير نہ لگانے ميں كوئى خرابى اور فساد نہ پيدا ہو تو اس غلطى سے تجاوز كيا جائے.

واللہ اعلم .

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 22 / 18 ).

 

 

 

 

خرابی کی صورت یا تجاویزکے لیے رپورٹ کریں

ہر میل،فیڈبیک،مشورے،تجویز کو قدر کی نظر سے دیکھا جائے گا

صفحہ کی لائن میں تبدیلی نہ کریں ـ