خاوند حسن معاشرت پر عمل نہيں كرتا اور نہ ہى اخراجات ديتا ہے اور بيوى خلع لينا چاہتى ہے

ميں ايك ايسے شخص سے شادى شدہ ہوں جو مجھ سے محبت نہيں كرتا، اور نہ ہى ميرے اخراجات برداشت كرتا ہے اور ميرے ساتھ معاملات بھى صحيح نہيں كرتا، اور سنت پر ميرا عمل كرنا بھى اسے برا لگتا ہے، اور مجھے ملازمت كرنے پر مجبور كرتا ہے، ميں اس سے خلع لينا چاہتى ہوں، ليكن ميرے والدين انكار كرتے ہيں، اس سلسلہ ميں شريعت كى رائے كيا ہے ؟

الحمد للہ:

اول:

شادى كے اہم شرعى مقاصد ميں سے ايك مقصد خاوند اور بيوى كے مابين محبت و الفت اور مودت و سكون كا حصول ہے، جب خاوند اور بيوى كے مابين معاشرت صحيح ہو، اور عقد شرعى كو ان ميں باقى ركھنا ممكن ہو، اور طبيعى طور پر اجتماع ہو تو پھر عورت كو حق حاصل نہيں كہ وہ اس مضبوط ربط كو ختم كرنے كا مطالبہ كرے، اور اسے يہ بھى حق حاصل نہيں كہ جس ميثاق اور معاہدے كو شريعت نے لازم كيا ہے اسے ختم كرے.

ثوبان رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس عورت نے بھى بغير كسى سختى كے اپنے خاوند سے طلاق كا مطالبہ كيا تو اس پر جنت كى خوشبو حرام ہے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2226 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے اسے صحيح قرار ديا ہے.

حديث ميں " غير باس " سے مراد يہ ہے كہ بغير كسى ايسى سختى اور تنگى كے جس كى بنا پر عليحدگى كا سوال كيا جا سكتا ہو.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جب خاوند اور بيوى كے حالات صحيح ہوں تو علماء كا اتفاق ہے كہ اس حالت ميں طلاق ممنوع ہے " انتہى

ديكھيں: القواعد النورانيۃ ( 265 ).

دوم:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان:

" من غير باس " يعنى بغير كسى تنگى و سختى كے اس پر دلالت كرتا ہے كہ اگر بيوى كا خاوند كے ساتھ رہنے ميں تنگى اور سختى ہو تو پھر عورت خلع لے سكتى ہے، يا پھر اس سے طلاق كا مطالبہ كر سكتى ہے.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جب بيوى سے حسن معاشرت مشكل ہو تو ان كے درميان عليحدگى كرا دى جائيگى " انتہى

ديكھيں: الفتاوى الكبرى ( 3 / 150 ).

اور سوال ميں جو ذكر كيا گيا ہے كہ خاوند بيوى كا نفقہ اور اخراجات نہيں كرتا اور اس كے ساتھ معاملات بھى اچھے نہيں ركھتا.... اس كے علاوہ جو بيان كيا گيا ہے، يہ سب ايسے اسباب ہيں كہ ايك سبب كى وجہ سے طلاق كے مطالبہ كو مباح كر ديتا ہے، يا پھر خلع ليا جا سكتا ہے؛ تو پھر اگر يہ سب كچھ جمع ہو جائے تو پھر كيا ہوگا ؟!

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 12465 ) اور ( 1859 ) كے جوابات كا مطالعہ ضرور كريں.

يہ علم ميں ہونا چاہيے كہ خلع كے حصول كے ليے والدين كو عورت پر ولايت حاصل نہيں؛ اور خاص كر جب وہ عورت بالغ اور عقلمند ہو، اس ليے والدين كو كوئى حق حاصل نہيں كہ وہ اسے خلع لينے پر مجبور كريں، اور اگر عورت كو خلع لينے كى ضرورت ہو تو وہ اسے خلع لينے سے منع نہيں كر سكتے، ليكن باپ كو نكاح ميں اپنى بيٹى پر ولايت حاصل ہے.

ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ الكويتيۃ ( 19 / 24 - 25 ).

ليكن يہ ہے كہ اس اقدام سے قبل ہم آپ كو يہ نصيحت كرتے ہيں كہ آپ كوئى ايسا واسطہ تلاش كريں جو شخص آپ كے خاوند كو نصيحت كرے، اور آپ كے درميان صلح كرانے كى كوشش كرے اگر صلح كى يہ كوشش اس قدر ہى ہو كہ اس سے معاشرت قائم ركھنا ممكن ہو سكے.

ليكن يہ يقين ہو كہ خاوند كوئى حق حاصل نہيں كہ وہ آپ كو معصيت و نافرمانى كا حكم دے مثلا كسى ايسى جگہ ملازمت كرنا جہاں مرد و عورت كا اختلاط ہو، يا پھر وہ آپ كا نفقہ و اخراجات نہ كرے، اور حسن معاشرت سے پيش نہ آئے.

اگر يہ چيز فائدہ نہ دے تو پھر آپ اپنے والدين كو مطمئن كرنے كى كوشش كريں، چاہے اس كے ليے آپ كسى ايسے شخص كو ڈاليں جو ان كے سامنے آپ كے حالات بيان كرے، كہ آپ كا اس كے ساتھ رہنے ميں كس طرح زيادہ مشقت ہے، اور آپ كے دين اور آپ كے نفس كو بھى نقصان اور ضرر ہے، اہم يہ ہے كہ آپ اپنے خاوند كے ساتھ جس گھر ميں رہ رہى ہيں اسے چھوڑنے سے قبل يہ سوچ ليں كہ جس گھر ميں آپ نے منتقل ہونا ہے وہ كيسا ہو گا اور كيا اس اقدام كے ليے تيار ہے.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ كو رشد و ہدايت نصيب فرمائے، اور آپ كے خاوند كى اصلاح فرمائے، اور آپ كے ليے آسانى پيدا كرے.

واللہ اعلم .

 

خرابی کی صورت یا تجاویزکے لیے رپورٹ کریں

ہر میل،فیڈبیک،مشورے،تجویز کو قدر کی نظر سے دیکھا جائے گا

صفحہ کی لائن میں تبدیلی نہ کریں ـ