كيسى بيوى اختيار كرنى چاہيے

ايك نيك و صالح بيوى كى كيا صفات ہيں، اور ہم اس بيوى سے كيوں شادى كرتے ہيں ؟

الحمد للہ:

جب دنيا كى زندگى آخرت كے ليے ايك مرحلہ شمار ہوتى ہے جس ميں آدمى آزمايا جاتا ہے تا كہ ديكھا جائے كہ وہ كيسے اعمال كرتا ہے اور پھر روز قيامت اسے ان اعمال كا بدلہ ديا جائے اس ليے ايك عقلمند مسلمان پر لازم تھا كہ وہ اپنى دنيا ميں ہر اس چيز كو تلاش كرنے كى كوشش كرے جو اس كى آخرت ميں سعادت كا باعث ہو، اور سب سے اہم اور بہتر معاون و مددگار اس كا نيك و صالح وہ ساتھى ہے جس سے وہ اپنے مسلمان معاشرے كى ابتدا كرتا ہے جس ميں وہ زندگى گزار رہا ہے، پھر ايك نيك و صالح اور متقى دوست اختيار كر كے ابتدا كرتا ہے جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے حكم ديتے ہوئے فرمايا:

" تم مومن كے علاوہ كسى اور سے دوستى مت ركھو "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4832 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

پھر اس كى انتہاء ايك نيك و صالح بيوى اختيار كر كے كرتا ہے جس ميں يہ نشانى پائى جاتى ہو كہ وہ اللہ سبحانہ و تعالى كے ہاں ميں ابدى سعات كى طرف ايك بہتر اور معاون رفيق حيات ثابت ہو گى.

اور بيوى كى نيكى كى نشانى زندگى كى ہر شعبہ ميں نظر آنى چاہيے:

يہى وہ بيوى ہے جس كے متعلق خيال اور گمان ہو كہ وہ اس كى موجودگى اور غير حاضرى ميں اپنے آپ اور اپنى عزت و ناموس ہر چھوٹے اور بڑے ميں حفاظت كريگى.

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

﴿ پس نيك و فرمانبردار عورتيں خاوند كى عدم موجودگى ميں بہ حفاظت الہى نگہداشت ركھنے والياں ہيں ﴾النساء ( 34 ).

يہى ہے جو اخلاق حسنہ كى مالك اور بلند ادب ركھتى ہو نہ تو اس كى چرب زبانى اور دل كى خباثت جانى جائے اور نہ ہى سوء معاشرت، بلكہ وہ پاكيزہ اور صاف و شفاف دل كى مالك اور اخلاق ركھتى ہو، اور حسن مخاطبہ اور معاملہ ميں نرمى ركھنے والى ہو، اور اس سب سے اہم يہ كہ وہ نصيحت كو قبول كرنے والى اور اس كو دل و جان اور عقل سے لے كر عمل كرنے والى ہو ان عورتوں ميں شامل نہ ہوتى ہو جو ہر وقت لڑائى جھگڑا اور رياء كارى اور تكبر كا شكار رہتى ہيں.

اصمعى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

ہميں بنى عنبر كے ايك شيخ نے بتايا كہ كہا جاتا ہے كہ عورتيں تين قسم كى ہوتى ہيں : ايك نرمى ركھنے والى آسانى والى مسلمان عورت اپنے گھر والوں كى زندگى ميں معاون بنتى ہے، اور وہ اپنے گھر والوں كے مقابلہ ميں زندگى كى معاون نہيں ہوتى، اور دوسرى بچے كے ليے برتن ہے اور تيسرى طوق ہوتى ہے اللہ تعالى جس كى گردن ميں چاہے اس طوق كو بنا ديتا ہے اور جسے چاہے اس سے دور كر ديتا ہے.

اور بعض كہتے ہيں:

بہترين عورت وہ ہے جسے ديا جائے تو شكر كرے، اور جب محروم رہے تو صبر كرے، اور جب تم اسے ديكھو تو وہ تمہيں خوش كر دے، اور جب اسے حكم دو تو وہ تمہارى اطاعت كرے.

وہى جو اپنے پروردگار كے ساتھ اپنے تعلق كو محفوظ ركھے اور ہميشہ ايمان و تقوى ميں اضافہ كى حرص و كوشش كرتى ہو نہ تو كوئى فرض ترك كرے، بلكہ نوافل كى حرص ركھتى ہو اور اللہ كى رضامندى كو ہر ايك كى رضا پر مقدم ركھتى ہو.

اسى كے متعلق رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" چنانچہ تم دين والى كو اختيار كرو تيرا ہاتھ خاك ميں ملے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 4802 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1466 ).

نيك و صالح عورت وہى ہے جسے آپ ديكھيں كہ وہ اپنى اولاد كى سچائى كے ساتھ تربيت كرنے والى مربيہ ہے، انہيں اسلامى تعليمات سكھائے اور اخلاق و قرآن كى تعليم دے، اور ان ميں اللہ اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم اور لوگوں كے ليے بھلائى كى محبت كا بيج بوئے، اولاد كى دنيا ميں اس كا يہى مقصد نہ ہو كہ وہ ايك اونچا مقام اور مرتبہ حاصل كريں اور مال و دولت اور اچھى نوكرى اور اچھا سرٹيفكيٹ حاصل كريں بلكہ ان كے ليے اسے تقوى و پرہيزگارى كے اعلى مراتب اور اخلاق و علم كے اعلى درجہ پر فائز كرنے كى كوشش كرنى چاہيے.

اس كے ساتھ ساتھ ايك مسلمان شخص كو ايسى بيوى اختيار كرنى چاہيے جب اسے ديكھے تو اس كے دل كو سكون ہو اور اس كى موجودگى سے اس كا دل راضى و خوش ہو جائے اور اس كى زندگى اور گھر خوشى و سرور اور فرحت سے بھر جائے.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں:

عرض كيا گيا اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كوسنى عورت بہتر ہے ؟

تو آپ نے فرمايا:

" وہ عورت جسے تم ديكھو تو وہ تمہيں خوش كر دے، اور جب تم اسے حكم دو وہ تمہارى اطاعت كرے، اور اپنے نفس اور خاوند كے مال و دولت ميں ايسى مخالفت نہ كرے جو خاوند كو پسند نہيں "

مسند احمد ( 2 / 251 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے السلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ حديث نمبر ( 1838 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے عرض كيا گيا:

" كونسى عورت افضل ہے ؟

تو انہوں نے فرمايا:

" جو قول ميں عيب نہ جاتى ہو، اور مردوں كے مكر كا علم نہ ركھتى ہو، دل كى فارغ ہو اور صرف اپنے خاوند كے ليے زينت اختيار كرتى ہو، اور اپنے گھر والوں كى عزت ميں رہتى ہو "

ديكھيں: محاضرات الادباء تاليف راغب اصفھانى ( 1 / 410 ) اور عيون الاخبار تاليف ابن قتيبۃ ( 1 / 375 ).

اور مزيد آپ درج ذيل سوالات كے جوابات كا مطالعہ كر كے استفادہ كر سكتے ہيں: سوال نمبر ( 6585 ) اور ( 8391 ) اور ( 26744 ) اور ( 83777 ).

واللہ اعلم .

 

خرابی کی صورت یا تجاویزکے لیے رپورٹ کریں

ہر میل،فیڈبیک،مشورے،تجویز کو قدر کی نظر سے دیکھا جائے گا

صفحہ کی لائن میں تبدیلی نہ کریں ـ