يہ نكاح شغار( يعنى وٹہ سٹہ ) اور ناجائز ہے

ميں جوان ہوں اور اپنى خالہ كى بيٹى سے عقد نكاح كيا ہے ليكن ميں اس كو پسند نہيں كرتا بلكہ اس كى بہن كو چاہتا ہوں ليكن مجھے اس سے شادى پر مجبور كيا گيا ہے كيونكہ اس كا بھائى ميرى بہن سے اس وقت تك شادى نہيں كريگا جب تك ميں اس لڑكى سے شادى نہ كروں جسے ميں نہيں چاہتا، اور لڑكى كو بھى اس كا علم ہے كہ ميں اسے نہيں چاہتا، ليكن اس كے گھر والے مصر ہيں كہ اس كى شادى ميرے ساتھ ہو، برائے مہربانى مجھے بتائيں كہ ميں كيا كروں ؟

الحمد للہ:

اللہ سبحانہ و تعالى نے انسان كو عقل كى نعمت سے نواز كر اسے عزت و تكريم سے نوازا ہے، اور اسے ايك آزاد ارادہ ہبہ كيا ہے تا كہ وہ اس كے ساتھ وہ كچھ اختيار كرے جو اس پر اس كا دين اور عقل اور اخلاق جيسى نعتوں كى املاء كرائے، اور اس سے شيطان اور خواہشات جيسى قبيح اشياء دور كرے، اس ليے جسے اللہ سبحانہ و تعالى نے يہ عزت والى اشياء ہبہ كى ہوں اسے اس ميں كسى بھى قسم كى كوتاہى نہيں كرنى چاہيے كہ وہ اپنے ارد گرد حرام اشياء اور اللہ كو ناراض كرنے والى رغبات كو ديكھ كر ان كے پيچھے چلنا شروع ہو جائے.

ميرے عزيز بھائى:

سنت نبويہ ميں اس شادى كى ممانعت آئى ہے جو آپ كےدرميان پا چكى ہے اور جسے نكاح شغار يعنى وٹہ سٹہ كے نكاح كا نام ديا جاتا ہے.

ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نكاح شغار يعنى وٹہ سٹہ كے نكاح سے منع فرمايا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5112 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1415 ).

اور " المدونۃ " ميں درج ہے:

" يہ بتائيں كہ اگر كسى نے كہا: اپنى بيٹى كى ميرے ساتھ ايك سو دينار ميں شادى كر دو، اس شرط پر كہ ميں اپنى بيٹى كى تيرے ساتھ سو دينار ميں شادى كر دونگا ؟

تو امام مالك رحمہ اللہ نے اس كو ناپسند اور مكروہ جانا، اور اسے نكاح شغار يعنى وٹہ سٹہ كا ايك طريقہ خيال كيا " انتہى

ديكھيں: المدونۃ ( 2 / 98 ).

اور اس كى دليل ابو داود وغيرہ كى درج ذيل حديث بھى ہے جو عبد الرحمن بن ھرمز سے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ عباس بن عبد اللہ بن عباس سے عبد الرحمن بن حكم نے اپنى بيٹى كى شادى كى، اور انہوں نے عبد الرحمن بن حكم سے اپنى بيٹى كى شادى كر دى، اور دونوں نے مہر بھى ركھا، تو معاويہ بن ابى سفيان رضى اللہ تعالى عنہما نے مروان بن حكم كو خط لكھا جس ميں انہوں نے ان دونوں كے درميان عليحدگى اور جدائى كا حكم ديا، اور اپنے خط ميں لكھا:

يہ وہ شغار يعنى وٹہ سٹہ ہے جس سے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے منع فرمايا تھا "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2075 ).

اور بعض اہل علم نے نكاح شغار كو فاسد نكاح شمار كيا ہے اس كا جارى ركھنا جائز نہيں.

مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ہے:

" جب كوئى شخص اپنى ولايت ميں كسى عورت كى شادى كسى دوسرے شخص سے اس بنا پر كرے كہ وہ اپنى ولايت ميں موجود عورت كا نكاح اس شخص سے كريگا تو يہ نكاح شغار يعنى وٹہ سٹہ كا نكاح ہے جس سےنبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے منع فرمايا ہے، اور اسے بعض لوگ نكاح بدل كا نام بھى ديتے ہيں، اور يہ نكاح فاسد ہے، چاہے اس ميں مہر مقرر ہو يا نہ مقرر كيا جائے، اور چاہے اس ميں رضامندى حاصل ہو يا نہ حاصل ہو.

ليكن اگر اس شخص نے دوسرے شخص كى ولايت ميں موجود عورت كو نكاح كا پيغام ديا اور اس دوسرے شخص نے پہلے كى ولايت ميں موجود عورت كونكاح كا پيغام بغير كسى شرط كے ديا اور دونوں عورتوں كى رضامندى اور نكاح كى باقى شروط اور اركان كے ساتھ نكاح ہو گيا تو اس ميں كوئى اختلاف نہيں، اور اس وقت يہ نكاح شغار نہيں ہو گا " انتہى

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 18 / 427 ).

مزيد آپ سوال نمبر ( 11515 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

اس سے يہ واضح ہوا كہ آپ نے ايك عظيم شرعى ممنوعہ كام كا ارتكاب كيا ہے، چہ جائيكہ يہ معاشرتى اور نفسياتى طور پر بھى عظيم اور بڑا ممنوعہ كام ہے.

اور يہ اس ليے كہ شادى كى ابتدا تو رضامندى اور اختيار كے ساتھ ہونى چاہيے، اور شريعت اسلاميہ نے ہر شادى ميں رضامندى كو مدنظر ركھا ہے اور اس كى حرص كى ہے حتى كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا ہے:

" كنوارى لڑكى كى شادى اس كى اجازت كے بغير نہ كى جائے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5136 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1419 ).

جب شادى رضامندى اور راحت كے ساتھ نہ ہو تو عام طور پر غالبا اس شادى كا انجام ناكامى ہى ہوتا ہے، تو پھر اگر خاوند اپنى بيوى كو ناپسند كرتا ہو جيسا كہ سائل كى حالت ہے تو انجام كيا ہو گا ؟

اور اس سے بھى زيادہ خطرناك تو يہ ہے كہ آپ اپنے ہونے والى بيوى سے تعلقت ركھتے اور اس سے محبت كرتے ہيں، آپ كا اس لڑكى كو ناپسند كرنا جس سے آپ كا عقد نكاح ہونے والا ہے اور اس كى بہن سے تعلق اور محبت ركھنے كا معنى يہ ہے كہ آپ كا نفس آپ كو حرام كى طرف جھانكنے كى دعوت دے گا اور شيطان كو اس سلسلہ ميں فرصت ملے گى اور وہ آپ كے سامنے معصيت و نافرمانى كو مزين كر كے پيش كرے گا اور اس طرح آپ اس گناہ ميں پڑينگے جس كا سوچنا بھى مشكل ہے، اور اس كے ساتھ ساتھ آپ كو شادى كى سعادت اور اپنى بيوى كے ساتھ انس و محبت كے ساتھ رہنے سے بھى محروم كر ديگا.

اور اس كا سبب اللہ سبحانہ و تعالى كى شريعت كى مخالفت اور نكاح شغار يعنى وٹہ سٹہ كا نكاح ہے!

اس ليے آپ كو يہى نصيحت ہے كہ آپ اس شادى كى تكميل سے اجتناب كريں، اور آپ كسى بھى بناوٹى عذر كو قبول مت كريں، بلكہ آپ اپنے بہنوئى پر واضح كر ديں كہ دونوں عقدوں كى اكھٹى شرط ركھنا حرام ہے، اور اس طرح دونوں عقد نكاح ہى فاسد ہو جائينگے، اسے اپنى بيوى كو اپنے پاس ہى ركھنا چاہيے ليكن اسى وقت اس كو يہ بھى چاہيے كہ وہ نكاح دوبارہ كرے، كيونكہ وٹہ سٹہ كى بنا پر نكاح فاسد تھا.

اور اگر وہ ايسا كرنے سے انكار كر دے اور اسے چھوڑنے پر اصرار كرتا ہے تو اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

 اور اگر مياں اور بيوى جدا ہو جائيں تو اللہ تعالى اپنى وسعت سے ہر ايك كو بے نياز كر ديگا، اللہ تعالى بڑى وسعت والا حكمت والا ہے النساء ( 130 ).

ميرے سائل بھائى: ميں آپ كو اللہ كى ياد دلاتا ہوں كہ آپ جس لڑكى كو چاہتے ہيں اس سے رابطہ كى كوشش كر كے اللہ تعالى كى حرمت اور حدود كو پامال كرنے كى كوشش مت كريں اگر اچھے طريقہ سے اس لڑكى كے ساتھ آپ كى شادى ميسر نہيں ہو سكتى تو آپ اس سے مكمل طور پر تعلق ختم كر ديں.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ كو ہدايت و توفيق سے نوازے.

واللہ اعلم .

 

خرابی کی صورت یا تجاویزکے لیے رپورٹ کریں

ہر میل،فیڈبیک،مشورے،تجویز کو قدر کی نظر سے دیکھا جائے گا

صفحہ کی لائن میں تبدیلی نہ کریں ـ