جب كوئى شخص اپنى نانى كا دودھ پئے تو وہ اپنے ماموں اور خالہ كا بھائى بن جائيگا

ميرے بيٹے نے اپنى نانى كا دودھ پيا ہے، تو كيا اس كے ليے اپنے ماموں اور خالہ كى بيٹى سے نكاح كرنا جائز ہو گا ؟

الحمد للہ:

اگر تو مذكورہ بچے نے اپنى نانى كا دودھ پانچ رضاعت يا زيادہ دو برس كى عمر ميں پيا تو اس طرح وہ اپنے ماموں اور خالہ كا رضاعى بھائى بن گيا، اور اپنے ماموں كى اولاد كا رضاعى چچا اور اپنى خالہ كى اولاد كا رضاعى ماموں بن جائيگا.

اس بنا پر وہ اپنے ماموں كى بيٹيوں سے شادى نہيں كر سكتا كيونكہ وہ ان كا رضاعى چچا ہے، اور اپنى خالہ كے بيٹيوں سے بھى شادى نہيں كر سكتا كيونكہ وہ ان كا رضاعى ماموں بنتا ہے، اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے " انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن باز ( 22 / 306 ).

 

خرابی کی صورت یا تجاویزکے لیے رپورٹ کریں

ہر میل،فیڈبیک،مشورے،تجویز کو قدر کی نظر سے دیکھا جائے گا

صفحہ کی لائن میں تبدیلی نہ کریں ـ