لڑكى كے رضاعى بھائى كا لڑكى كے والد كى طرف سے بہن كے ساتھ رشتہ

 

ميرا ايك رضاعى بھائى ( جو ميرى والدہ كى طرف سے بھائى شمار ہوتا ) ہے، اور والد كى جانب سے ميرى ايك بہن ہے ( والد كى دوسرى بيوى سے جو ميرى والدہ كى شادى سے قبل تھى ) بطور علم اس لڑكى نے نہ تو ميرى والدہ كا دودھ پيا ہے اور نہ ہى كبھى ہمارے ساتھ رہى ہے، تو كيا ميرا يہ رضاعى بھائى ميرى اس بہن كا بھى رضاعى بھائى ہو گا جو ميرے والد كى جانب سے ہے ؟
اور كيا ميرى پھوپھياں اس لڑكى كى پھوپھياں شمار ہونگى ؟

الحمد للہ:

اگر اس رضاعى بھائى نے آپ كى والدہ كا پانچ رضاعت پورا دودھ پيا ہے تو وہ اس كى رضاعى ماں بنتى ہے، اور اس كا خاوند ( آپ كا والد ) اس كا رضاعى باپ ہو گا، اور آپ كے والد كى سب بيٹياں چاہے وہ كسى بھى بيوى سے ہوں وہ اس لڑكے كى رضاعى بہنيں ہونگى، اور آپ كى سب پھوپھياں اس كى رضاعى پھوپھياں ہونگى.

اہل علم كے ہاں يہ مسئلہ " لبن الفحل " يعنى خاوند كے دودھ كے نام سے پہچانا جاتا ہے، كيونكہ خاوند ہى دودھ والا ہے، يا خاوند ہى دودھ آنے كا سبب ہے، تو اس طرح اس كى جانب سے بھى اسى طرح حرمت ثابت ہو گى جس طرح دودھ پلانے والى عورت كى جانب سے ہوتى ہے.

اسى ليے دودھ پينے والے بچے كا رضاعى باپ اور رضاعى چچا، اور رضاعى پھوپھى الخ ہونگے.

بخارى اور مسلم نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے روايت كيا ہے وہ بيان كرتى ہيں:

" ابو القعيس كے بھائى افلح نے پردہ نازل ہونے كے بعد اندر آنے كى اجازت طلب كى تو ميں نے كہا:

اللہ كى قسم ميں اس وقت تك اجازت نہيں دونگى جب تك رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں، كيونكہ ابو القعيس كے بھائى نے مجھے دودھ نہيں پلايا، ليكن مجھے تو ابو القعيس كى بيوى نے دودھ پلايا ہے.

چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ميرے پاس آئے ميں نے عرض كيا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم: مجھے آدمى نے تو دودھ نہيں پلايا، بلكہ اس كى بيوى نے مجھے دودھ پلايا ہے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم اسے اجازت دو اور آنے دو كيونكہ وہ تمہارا چچا ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6156 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 3315 ).

تو اس حديث ميں رضاعى باپ ہونے كى دليل ملتى ہے كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسى بنا پر افلح كو عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كا رضاعى چچا كہا؛ كيونكہ وہ ان كے رضاعى باپ كا بھائى تھا.

حاصل يہ ہوا كہ:

وہ بھائى جس نے آپ كى والدہ كا دودھ پيا ہے وہ والد كى جانب سے آپ كى بہن كا رضاعى بھائى ہوا، اسى طرح آپ كى نسب كے اعتبار سے پھوپھياں بھى اس كى رضاعى پھوپھياں شمار ہونگى.

واللہ اعلم .

 

 

خرابی کی صورت یا تجاویزکے لیے رپورٹ کریں

ہر میل،فیڈبیک،مشورے،تجویز کو قدر کی نظر سے دیکھا جائے گا

صفحہ کی لائن میں تبدیلی نہ کریں ـ