انٹرنیٹ کے ذریعہ لڑکی کا اپنے منگیتر کوتصویر ارسال کرنا

 

ہم نے مندرجہ ذيل سوال فضیلۃ الشيخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ تعالی کے سامنے پیش کیا :
سوال : کیا لڑکی کے لیے انٹرنیٹ کے ذریعہ اپنی تصویر منگیتر کوبھیجنی جائز ہے تا کہ وہ شادی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرسکے ؟

الحمدللہ

توشیخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :

میرے خیال میں ایسا کرنا جائز نہیں :

اول : اس لیے کہ اسے دیکھنے میں دوسرے بھی شریک ہوسکتے ہیں ۔

دوم : اس لیے کہ تصویر مکمل طور پر حقیقت بیان نہیں کرتی ، کتنی ہی ایسی تصویریں ہیں جنہیں دیکھا اورجب اس لڑکی کا مشاھدہ کیا تو وہ تصویر سے بالکل ہی مختلف تھی ۔

سوم : ہوسکتا ہے یہ تصویر منگیتر کےپاس ہی رہے اوروہ منگنی توڑنے کے بعد اس تصویر سے لڑکی کوبلیک میل کرے اورجس طرح چاہے لڑکی کو نچاتا پھرے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ .

الشیخ محمد بن صالح عثیمین

 

 

خرابی کی صورت یا تجاویزکے لیے رپورٹ کریں

ہر میل،فیڈبیک،مشورے،تجویز کو قدر کی نظر سے دیکھا جائے گا

صفحہ کی لائن میں تبدیلی نہ کریں ـ