عقد نكاح ميں لكھى گئى كرنسى كے علاوہ دوسرى كرنسى ميں مہر دينا

 

 

 

كيا عورت كو عقد نكاح ميں لكھى گئى كرنسى كے علاوہ كوئى اور كرنسى دينا جائز ہے مثلا سعودى ريال كے بدلے قطرى يا يمنى كرنسى ؟

الحمد للہ:

اگر خاوند اور بيوى عقد نكاح ميں لكھى گئى كرنسى كے علاوہ دوسرى كرنسى دينے پر راضى ہوں تو ايسا كرنا جائز ہے ليكن شرط يہ ہے كہ اس كرنسى كى قيمت ادائيگى كے وقت كى لگائى جائے نہ كہ عقد نكاح ميں لكھنے كى دن كى، اور اسے پورى رقم ادا كى جائے اور وہ عليحدہ ہونے سے قبل سارى ادائيگى كر دے خاوند كے ذمہ كچھ باقى نہ ہو.

اس كى دليل ابو داود اور نسائى كى روايت كردہ درج ذيل حديث ہے:

ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

" ميں بقيع كے پاس اونٹ فروخت كيا كرتا تھا، چنانچہ ميں دينار ميں فروخت كرتا اور درہم ليتا، اور درہم ميں فروخت كرتا اور دينار ليتا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اس كے متعلق دريافت كيا تو آپ نے فرمايا:

" اس ميں كوئى حرج نہيں كہ تم اس دن كے ريٹ ميں لو جب تم جدا ہو تو تمہارے درميان كچھ باقى نہ ہو "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 3354 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 4582 ) امام نووى رحمہ اللہ نے المجموع ( 9 / 330 ) ميں اور ابن قيم نے " تھذيب السنن ميں اور احمد شاكر نے مسند احمد ( 7 / 226 ) كى تحقيق ميں اسے صحيح قرار ديا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ نے ضعيف ابو داود ميں اسے ضعيف قرار ديا ہے.

اور يہ حديث بيوع اور سود ميں شرعى قواعد كے موافق ہے اس ليے فقھاء كے ہاں اس پر عمل ہے.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 8 / 305 ).

مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ايك شخص نے فرانس كى كرنسى ميں قرض ليا اور جب قرض واپس كرنے كا وقت آيا تو لينے والے نے جزائرى كرنسى ميں قرض واپس كرنے كا مطالبہ كيا اس كے متعلق كيا حكم ہے ؟

كميٹى كا جواب تھا:

" اس كے ليے جزائرى كرنسى ميں قرض واپس كرنا جائز ہے جتنى فرانس كى كرنسى كى قيمت بنتى ہے اسى قيمت كے مطابق جزائرى كرنسى ادا كر دے، يا پھر جس دن قرض واپس كرنا ہے وہ جزائرى كرنسى ميں واپس كرے، اور جدا ہونے سے قبل اپنے قبضہ ميں كرنا ہو گى " انتہى

فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 14 / 143 ).

واللہ اعلم .

 

 

 

 

خرابی کی صورت یا تجاویزکے لیے رپورٹ کریں

ہر میل،فیڈبیک،مشورے،تجویز کو قدر کی نظر سے دیکھا جائے گا

صفحہ کی لائن میں تبدیلی نہ کریں ـ